Tuesday, 19 April 2022

تیرے سائے میں چھپا کر تجھے لے جاؤں گا

 تیرے سائے میں چھپا کر تجھے لے جاؤں گا

تُو دیا ہے، میں جلا کر تجھے لے جاؤں گا

سارے رستوں پہ بٹھا رکھے ہیں پہرے تُو نے

کسے رستے سے بھی آ کر تجھے لے جاؤں گا

اس سے پہلے کہ یہ بارش، یہ ہوا رک جائے

اپنی چھتری میں بلا کر تجھے لے جاؤں گا

دو کنارے کبھی دریا کے نہیں مل سکتے

دو کناروں کو ملا کر تجھے لے جاؤں گا

جاگنے والے تجھے ڈھونڈتے رہ جائیں گے

میں تِرے خواب میں آ کر تجھے لے جاؤں گا


نذیر قیصر

No comments:

Post a Comment