سونے لگتے تھے تو خوابوں میں پری آتی تھی
آنکھ کُھل جاتی تو بس دربدری آتی تھی
اول اول تو مِرے زخم بھی سِل جاتے تھے
پہلے پہلے تو اسے بخیہ گری آتی تھی
اپنا نوحہ میں درختوں کو سناتا تھا اور
چیخ جنگل سے بہت درد بھری آتی تھی
ڈاکیا آتا ہے گاؤں میں تو یاد آتا ہے
میرے خط میں بھی کبھی خوشخبری آتی تھی
پیڑ پودے جو خوشی کے تھے جلے تھے لیکن
شاخ آنگن میں اداسی کی ہَری آتی تھی
عبید ثاقب
No comments:
Post a Comment