درد کی حد سے گزارے تو سبھی جائیں گے
جلد یا دیر سے مارے تو سبھی جائیں گے
نَدیاں لاشوں کو پانی میں نہیں رکھتی ہیں
تیریں یا ڈوبیں کنارے تو سبھی جائیں گے
چاہے کتنی بھی بلندی پہ چلا جائے کوئی
آسمانوں سے اتارے تو سبھی جائیں گے
صرف میں ہی نہیں بازار کی مَندی کا شکار
جیب میں لے کے خسارے سبھی جائیں گے
مسجدیں سب کو بلاتی ہیں بھلائی کی طرف
آئیں نہ آئیں، پکارے تو سبھی جائیں گے
شکیل اعظمی
No comments:
Post a Comment