Tuesday, 19 April 2022

درد کی حد سے گزارے تو سبھی جائیں گے

 درد کی حد سے گزارے تو سبھی جائیں گے

جلد یا دیر سے مارے تو سبھی جائیں گے

نَدیاں لاشوں کو پانی میں نہیں رکھتی ہیں

تیریں یا ڈوبیں کنارے تو سبھی جائیں گے

چاہے کتنی بھی بلندی پہ چلا جائے کوئی

آسمانوں سے اتارے تو سبھی جائیں گے

صرف میں ہی نہیں بازار کی مَندی کا شکار 

جیب میں لے کے خسارے سبھی جائیں گے

مسجدیں سب کو بلاتی ہیں بھلائی کی طرف

آئیں نہ آئیں، پکارے تو سبھی جائیں گے


شکیل اعظمی

No comments:

Post a Comment