یہ کام آ ہی گیا پر زمانے لگ گئے ہیں
شدید دکھ کو ہنسی میں اڑانے لگ گئے ہیں
وہ عنقریب ہمیں چھوڑ دے گا کیونکہ ہم
وہ لازمی ہے اسے یہ بتانے لگ گئے ہیں
خدا کرے کہ انہیں پیار ہو پرندوں سے
درخت کاٹ کے جو گھر بنانے لگ گئے ہیں
عجیب چیز ہے پیسہ بھی جس کے آتے ہی
جو دیکھتے بھی نہیں تھے، بلانے لگ گئے ہیں
لپٹ کے ماں سے سسکتے ہوئے کہا میں نے
یہ دنیا والے بڑا دل دکھانے لگ گئے ہیں
سکون کیا ہے؟ سمجھنا تھا اس لیے ہم لوگ
حضور آپ کی محفل سجانے لگ گئے ہیں
تمہارا ذکر کیا بس جنوں کی محفل میں
جو پاس بیٹھے تھے پاؤں دبانے لگ گئے ہیں
مصطفیٰ کمال
No comments:
Post a Comment