Wednesday, 12 October 2022

آدمی بھی آدمی کا رازداں ہوتا نہیں

آدمی بھی آدمی کا راز داں ہوتا نہیں

بے خبر رہتا ہے لیکن بد گماں ہوتا نہیں

زحمتیں یکساں مکان و لا مکاں سے کیا ہوا

کیا خلاؤں سے پرے بھی آسماں ہوتا نہیں

ہم کہ خود رہرو بھی ہیں رہبر بھی ہیں رہزن بھی ہیں

واں پہنچتے ہیں جہاں پر کارواں ہوتا نہیں

بڑھ گئے اخوانِ یوسف سے یہ اخوان الصفا

پھینک دیتے ہیں وہاں جس جا کنواں ہوتا نہیں

ہے جراحت آفریں درمانِ دردِ لا دوا

شعلہ کرتا ہے شررباری دھواں ہوتا نہیں

حسنِ بے پردہ حریف تاب نظارہ نہیں

ہو نظر کے سامنے لیکن عیاں ہوتا نہیں

مرگِ بے ہنگام اپنے شہر کا معمول ہے

لوگ مر جاتے ہیں کوئی نوحہ خواں ہوتا نہیں

جو بھی ہو جس حال میں ہے زندگی اس کو عزیز

جان جاں کہنے سے کچھ جان جہاں ہوتا نہیں

بے‌ اداکاری بھی خاموشی سے مر جاتے ہیں لوگ

یاں پہ کوئی کھیل مرزا صاحباں ہوتا نہیں


خالد حسن قادری

No comments:

Post a Comment