بارش سا پانی آنکھوں سے بہنے لگ جائے تو
تیری چاہت دل میں گُھٹ کر مرنے لگ جائے تو
پہلے جس کو بے چینی ہی رہتی ہو بِن میرے
پھر یک دم وہ کم ملنے کا کہنے لگ جائے تو
سانپ کوئی زہریلا لڑ جائے جیسے چُپکے سے
بے چینی بھی گر ویسے ہی لڑنے لگ جائے تو
شام تلک آ جانے کا وعدہ کر کے بھی کوئی
عصر سمے ہی خوب بہانے کرنے لگ جائے تو
کمرے کے اک کونے سے لگ کر روتے ہی رہنا
شام سویرے ایسی عادت بننے لگ جائے تو
عمروں کے جوبن پہ گر نقشے اُلٹے ہو جائیں
اور بائیس برس میں چہرہ ڈھلنے لگ جائے تو
یاد پٹاری کُھل تو جاوے لیکن اس سے شوزب
سُندر سی ناگن نِکلے، اور ڈسنے لگ جائے تو
شوزب حکیم
No comments:
Post a Comment