Thursday, 22 April 2021

اداسی کے سمندر سے نکل جاتے تو کیا کرتے

 اداسی کے سمندر سے نکل جاتے، تو کیا کرتے

یہ آنسو میری آنکھوں سے اُچھل جاتے تو کیا کرتے

خزاں آتے ہی میں نے کاٹ ڈالیں تھیں، جڑیں اپنی

اگر موسم مکمل بھی بدل جاتے، تو کیا کرتے

ہماری سوچ کا محور ہی دلدل سے گزرتا ہے

ہم اپنی راہ میں جاناں، سنبھل جاتے، تو کیا کرتے

جنہیں فرصت نہیں تھی پاؤں میں چھالے بنانے سے

وہ پتھر ہاتھ میں آکر پگھل جاتے، تو کیا کرتے

جسے سب سرخ منظر سبز ہی دکھلائی دیتے ہوں

ہم اس کے سامنے سارے بھی جل جاتے، تو کیا کرتے


عمران ملوک اعوان

No comments:

Post a Comment