Thursday, 22 April 2021

مری موت میری نہیں دوسروں کی بھی ہے

 مِری موت میری نہیں دوسروں کی بھی ہے

دوسرے جس طرح

مجھ میں ہیں

تِری موت میری ہے

یہ اک اٹیچی کی صورت مِرے ہاتھ میں ہے

نہ جس کو کبھی کھول پاؤں گا میں

یہ چابی ہے ایک ایسے کمرے کی

جس میں

کبھی آؤں گا اور نہ جاؤں گا میں


جمشید مسرور

No comments:

Post a Comment