دکھائی دیتا ہوں اپنے سبب سے ہوتا ہوا
وگرنہ کام یہاں کیا ہے ڈھب سے ہوتا ہوا
کہاں نکلتا ہوں جا کر خبر نہیں ہے مجھے
گزر رہا ہوں تِرے چشم و لب سے ہوتا ہوا
میں مر نہ جاؤں نکل کر تمہارے رستے سے
کہ میں تو ہوں ہی تمہاری طلب سے ہوتا ہوا
گروں گا جا ابد آباد کے سمندر میں
انہیں جھلستے ہوئے روزوشب سے ہوتا ہوا
اُتر ہی جاؤں گا اس دل میں آفتاب حسین
کہ راستہ سا تو کنج لب سے ہوتا ہوا
آفتاب حسین
No comments:
Post a Comment