Friday, 9 April 2021

ملے جو اس سے تو یادوں کے پر نکل آئے

 ملے جو اس سے تو یادوں کے پر نکل آئے

اس اک مقام پہ کتنے سفر نکل آئے

اُجاڑ دشت میں بس جائے میری ویرانی

عجب نہیں کہ یہیں کوئی گھر نکل آئے

بس ایک لمحے کو چمکی تھی اس کی تیغ نظر

خلائے وقت میں قرنوں کے سر نکل آئے

مچان باندھنے والے نشانہ چوک گئے

کہ خود مچان کی جانب سے ڈر نکل آئے

شہیدِ کُوئے محبت ہیں کانپ جاتے ہیں

ندیم خیر سے کوئی اگر نکل آئے

درخت صبر بریدہ سہی، پہ جانتے ہیں

ہوا ہے یہ بھی کہ اس پر ثمر نکل آئے

عدو کے ہاتھ بھی تیغ و تبر سے خالی ہیں

عجیب کیا ہے جو ہم بے سِپر نکل آئے

غمِ جہان و غمِ یار دو کنارے ہیں

اِدھر جو ڈُوبے وہ اکثر اُدھر نکل آئے

یہاں تو اہلِ ہُنر کے بھی پانو جلتے ہیں

یہ راہِ شعر ہے ارشد کدھر نکل آئے؟


ارشد حمید

No comments:

Post a Comment