نگاہِ دل سے بتا جسم کی زباں سے نہیں
کہاں کہاں سے ہمارا ہے تُو کہاں سے نہیں
بڑا عجیب مِرے ہمسفر کا فلسفہ ہے
شروع ہو گا ہمارا سفر یہاں سے نہیں
میں اپنی تیزئ رفتار کا نشانہ بنا
یہ تیر ہاتھ سے مجھ کو لگا کماں سے نہیں
تو کیا بس اتنا تمہیں اعتبار ہے مجھ پر
فلاں فلاں سے رکھو رابطہ فلاں سے نہیں
اظہر فراغ
No comments:
Post a Comment