Friday, 9 April 2021

یہ لوگ بات میں منطق تلاش کرتے ہیں

یہ لوگ بات میں منطق تلاش کرتے ہیں

میں دیکھتا ہوں کہاں تک تلاش کرتے ہیں

زباں دراز ہیں ان کی زباں نکال دی جائے

خدا کی بات میں یہ شک تلاش کرتے ہیں

یہ کیسے لوگ ہیں ملنے ملانے کی خاطر

زمین ذادوں میں مسلک تلاش کرتے ہیں

ذرا سی بات بگڑنے کی دیر ہے تو چلو

کہ خانیوال کا وہ چک تلاش کرتے ہیں

عجیب چاہنے والے ہیں، دشت چھوڑ گیا

تو اس کی گمشدہ توشک تلاش کرتے ہیں

کئی جگہ پہ وہ تقدیر آزمانے کے بعد

امام بننے میں گُڈ لک تلاش کرتے ہیں

وہ جن کے مسئلے آپس میں ہی نہیں ملتے

وہ اپنے مسئلوں میں حق تلاش کرتے ہیں


معید مرزا

No comments:

Post a Comment