یہ لوگ بات میں منطق تلاش کرتے ہیں
میں دیکھتا ہوں کہاں تک تلاش کرتے ہیں
زباں دراز ہیں ان کی زباں نکال دی جائے
خدا کی بات میں یہ شک تلاش کرتے ہیں
یہ کیسے لوگ ہیں ملنے ملانے کی خاطر
زمین ذادوں میں مسلک تلاش کرتے ہیں
ذرا سی بات بگڑنے کی دیر ہے تو چلو
کہ خانیوال کا وہ چک تلاش کرتے ہیں
عجیب چاہنے والے ہیں، دشت چھوڑ گیا
تو اس کی گمشدہ توشک تلاش کرتے ہیں
کئی جگہ پہ وہ تقدیر آزمانے کے بعد
امام بننے میں گُڈ لک تلاش کرتے ہیں
وہ جن کے مسئلے آپس میں ہی نہیں ملتے
وہ اپنے مسئلوں میں حق تلاش کرتے ہیں
معید مرزا
No comments:
Post a Comment