آج کچھ یوں شبِ تنہائی کا افسانہ چلے
روشنی شمع سے دل درد سے بیگانہ چلے
شعلہ در شعلہ کسی یاد کے چہرے ابھریں
موج در موج حباب رُخِ جانانہ چلے
کچھ نہ ہو آنکھ میں بے درد نگاہوں کے سوا
گفتگو ساقیٔ دوراں سے حریفانہ چلے
وقت جھُومے کہیں بہکے کہیں تھم جائے کہیں
کھِل اُٹھیں نقشِ قدم یوں کوئی دیوانہ چلے
ٹُوٹنے پائے نہ یہ سلسلۂ گردش درد
دست در دست چھلکتا ہوا پیمانہ چلے
انور معظم
No comments:
Post a Comment