Saturday, 10 April 2021

ہوائے حرص و ہوس سے مفر بھی کرنا ہے

 ہوائے حرص و ہوس سے مفر بھی کرنا ہے

اسی درخت کے سائے میں گھر بھی کرنا ہے

انا ہی دوست، انا ہی حریف ہے میری

اسی سے جنگ اسی کو سِپر بھی کرنا ہے

چل آ تجھے کسی محفوظ گھر میں پہنچا دوں

پھر اس کے بعد مجھے تو سفر بھی کرنا ہے

یہی نہیں کہ پہنچنا ہے آسمانوں پر

دعائے وصل تجھے اب اثر بھی کرنا ہے

ہمیں تو شمع کے دونوں سرے جلانے ہیں

غزل بھی کہنی ہے شب کو بسر بھی کرنا ہے


ارشد حمید

No comments:

Post a Comment