ریت
ریت کے ذرے نہیں یہ کِرچیاں ہیں
آئینے کی کِرچیاں
ابتدائے آفرینش میں یہ ہستی کانچ تھی
کانچ کی حیرت محجر آئینہ
آئینے میں عکس جھلکا چھن ہوئی
پھر زندگی کا سب توازن ریت تھا
سب ریت
دل ہمارا آئینہ دل ہمارا ریت
ریت کی جھرمر بہر سو منصرِف ہے
کِرچیوں میں عکس اور
حیرت کدوں میں رقص کا ہیجان
دل مُٹھی میں اس کی
اور ہستی؟
ایک مٹھی ریت
انور زاہد
No comments:
Post a Comment