Sunday, 9 October 2022

آشنائی ہی سہی اپنی طلب کوئی تو ہو

 آشنائی ہی سہی اپنی طلب کوئی تو ہو

اس دیار غیر میں بھی ہم نسب کوئی تو ہو

شور گھر تک آ گیا ہے کوچہ و بازار کا

کچھ تو ایسا ہو یہاں پہ مہر لب کوئی تو ہو

کرب تنہائی لیے آخر کہاں تک جائیے

حادثہ ہی ہو اگرچہ بے سبب کوئی تو ہو

ساز کے ٹوٹے ہوئے تاروں کو پھر سے جوڑیۓ

نغمۂ خوش رنگ یا سوز طرب کوئی تو ہو

شاخ سے ٹوٹے ہوئے پتے بہت مایوس ہیں

ایک چنگاری سہی ان کا بھی اب کوئی تو ہو


خالد جمال

No comments:

Post a Comment