Monday, 11 April 2022

ہمارے راز سیٹلائٹ چوری کر لیتا تھا

سوال کرنے والے کے حلق میں نوالہ ہے

ہمارے راز

سیٹلائٹ چوری کر لیتا تھا

اب سیٹلائٹ سے راز چوری ہو رہے ہیں

شک کرنے والے کھوج کے حمل میں ہیں

تلاش میں جاگتی چشمے کی آنکھ میں 

کہکشاں کے دودھیا موتیوں کا ہار آ گرا ہے

ہار وقت کی چیل چرا کر 

مگر لے کہاں جا رہی تھی

اتنی چھوٹی سی چیز کو 

آنکھ کے قلزم میں کون تلاش کرے گا

زمین اپنی شہوتوں کا بول براز 

چاند کی جانگھوں میں انڈیل کر 

سبک ہونا چاہتی ہے

مفعول کی مرضی جانے بغیر

جیسے سمندر میں ایٹمی فُضلہ تلف کیا جاتا ہے

روایتی جنگ سے نجات کا مُژدہ سنا کر

جنگ کی روایت کب ختم ہو گی

سوال کرنے والے کے حلق میں نوالہ ہے


انور زاہد

No comments:

Post a Comment