سوال کرنے والے کے حلق میں نوالہ ہے
ہمارے راز
سیٹلائٹ چوری کر لیتا تھا
اب سیٹلائٹ سے راز چوری ہو رہے ہیں
شک کرنے والے کھوج کے حمل میں ہیں
تلاش میں جاگتی چشمے کی آنکھ میں
کہکشاں کے دودھیا موتیوں کا ہار آ گرا ہے
ہار وقت کی چیل چرا کر
مگر لے کہاں جا رہی تھی
اتنی چھوٹی سی چیز کو
آنکھ کے قلزم میں کون تلاش کرے گا
زمین اپنی شہوتوں کا بول براز
چاند کی جانگھوں میں انڈیل کر
سبک ہونا چاہتی ہے
مفعول کی مرضی جانے بغیر
جیسے سمندر میں ایٹمی فُضلہ تلف کیا جاتا ہے
روایتی جنگ سے نجات کا مُژدہ سنا کر
جنگ کی روایت کب ختم ہو گی
سوال کرنے والے کے حلق میں نوالہ ہے
انور زاہد
No comments:
Post a Comment