Monday, 11 April 2022

میں ڈھونڈنے نکلا تھا کبھی خاک میں دنیا

 میں ڈھونڈنے نکلا تھا کبھی خاک میں دنیا

گم ہوتی گئی وسعتِ افلاک میں دنیا

میں خاک ہوں ملتے ہیں سبھی میری حدوں سے

میں چاک ہوں گھومے مِری پیچاک میں دنیا

میں مانگنے والا نہیں درویش ہوں صاحب

مل جائے گی تم کو مِری پوشاک میں دنیا

میں اس کو بھگو کر ہی نہ رکھ دوں سرِ امکاں

آئے نہ مِرے دیدۂ نمناک میں دنیا

آتا ہے عذاب اس کا دبے پاؤں زمیں پر

ملتی ہے اچانک خس و خاشاک میں دنیا

چمکے تھے کبھی ہست کے آثار فضا میں

رکھی تھی کہیں انفس و آفاق میں دنیا

ہاتھ اس کے لگا ہوں سو یہ تڑپائے گی مجھ کو

بیٹھی تھی ازل سے جو مِری تاک میں دنیا

پوچھا جو کسی نے کہ گماں کیا ہے فدا بول

میں چپ تھا کہ آئی مِرے ادراک میں دنیا


نوید فدا ستی

No comments:

Post a Comment