میں کیوں چنا گیا غمِ مرقوم کے لیے
دنیا میں کیا خوشی نہیں محکوم کے لیے
دل میں رُکا ہے قافلہ سفاک و بے لحاظ
پھر کیا جگہ بنے کسی مظلوم کے لیے
بس قصہ مختصر ہے مِرا کچھ نہیں بچا
میں بین کیا کروں کسی مفہوم کے لیے
یہ مانتا ہوں میں کہ لڑکپن کا یار تھا
اب کیا تڑپ اٹھوں دلِ مرحوم کے لیے
خادم پہ جو بھی جبر ہو کیسے کہوں گناہ
شاید ثواب ہو مِرے مخدوم کے لیے
دنیا میں خود جدا بنے خود کو فنا کیا
اب کیوں ملال ہو کسی معدوم کے لیے
سید! جو غم شناس تھے وہ دربدر ہوئے
رشتوں میں کچھ نہیں کسی مغموم کے لیے
سید خرم نقوی
No comments:
Post a Comment