Tuesday, 12 April 2022

نیرنگ زمانہ کا اثر دیکھ رہا ہوں

نیرنگِ زمانہ کا اثر دیکھ رہا ہوں

بدلی ہوئی پیاروں کی نظر دیکھ رہا ہوں

تھکتی ہی نہیں دیکھنے سے منتظر آنکھیں

کب سے میں یوں ہی جانبِ در دیکھ رہا ہوں

اللہ رے، اس محویتِ دِید کا عالم

اتنی بھی نہیں مجھ کر خبر دیکھ رہا ہوں

بِن دیکھے ہی اس طرح بگڑنے لگا ناصح

تُو بھی تو ادھر دیکھ جدھر دیکھ رہا ہوں

خورشید کے ہاتھوں میں شعاعوں کے ہیں نیزے

ہر ذرے کو میں سینہ سپر دیکھ رہا ہوں

ہے گردِ سفر قافلۂ انجم و اختر

بیٹھا میں سرِ راہگزر دیکھ رہا ہوں

افلاک بھی شاید کہ ہیں ساکت مِرے غم میں

ہر روز وہی شام و سحر دیکھ رہا ہوں

پھر بھی یہی جی میں ہے بنوں اہلِ ہنر میں

گو خستگئ اہلِ ہنر دیکھ رہا ہوں

دل پھر بھی وہی لعل و گُہر ڈھال رہا ہے

گو خاک میں سب لعل و گُہر دیکھ رہا ہوں

فضلی بشریت کا ہے اک یہ بھی تماشہ

انسان کو جو آمادہ بہ شر دیکھ رہا ہوں


سید فضل کریم فضلی

No comments:

Post a Comment