Tuesday, 12 April 2022

زندگی نے میری طرف سے رخ بدل لیا ہے

 بے یقینی میں


زندگی نے میری طرف سے رخ بدل لیا ہے

مجھے شاید اس کی پرواہ بھی نہیں

ہاں دکھ ہے

تو اس بات کا کہ 

موت بھی مجھے قبولنے سے انکاری ہے

کیا اس کے علاوہ کوئی انتخاب ہے میرے پاس

کہ میں زندگی کی رمق سے خالی آنکھوں

دنیا کے لیے آتی جاتی سانسوں 

اور بے حس وجود کے ساتھ انتظار کروں

اس وقت کا

جب موت کو مجھ پر رحم آئے 

اور مجھے خود میں سمیٹ لے

اس خالی وجود کو 

سانسوں کے بار سے آزاد کر دے

اور اس قابل کر دے کہ 

زیر زمین ایک پناہ گاہ میسر آ سکے


نمل بلوچ

No comments:

Post a Comment