Sunday, 21 November 2021

کتنے نایاب تھے لمحے جو وہاں پر گزرے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کتنے نایاب تھے لمحے جو وہاں پر گزرے

جب اٹھے ہاتھ دعاؤں کو تو گوہر برسے

تک رہے تھے تِرے گھر کو وہ سماں بھی کیا تھا

تو گزرتا ہے ہوا آئی تو ہم یہ سمجھے

کتنی ہی بار کیا ہم نے تو زمزم سے وضو

کتنی ہی بار تِری یاد میں آنسو چھلکے

سرمۂ خاکِ مدینہ جو لگا آنکھوں میں

مثل آئینے کے آنکھوں کے نگینے چمکے


رضیہ حلیم جنگ

No comments:

Post a Comment