Sunday, 21 November 2021

لگتا ہی نہیں گھر میں میرا جی کسی صورت

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


لگتا ہی نہیں گھر میں میرا جی کسی صورت

پہنچا دے مدینے میں الٰہی!! کسی صورت

اور پھر اس پہ نچھاور کروں میں اشکوں کی لڑیاں

پھر سامنے روضے کی ہو جالی کسی صورت

بستی ہے تیری یاد سے بستی میرے دل کی

بستی نہ کبھی ورنہ یہ بستی کسی صورت

آقاؐ کی ہو سیرت کے مطابق میری سیرت

صورت نکل آئے کوئی ایسی کسی صورت

در پہ بلا لیں مجھے یا خواب میں آ جائیں

دے دیں دلِ مضطر کو تسلی کسی صورت

میں کرنے کو قربان لیے پھرتا ہوں دل و جاں

اس دھن میں کہ ہو جائیں وہ راضی کسی صورت

آنکھوں سے لگاؤں کبھی آنکھوں میں لگاؤں

مل جائے تیرے در کی جو مٹی کسی صورت

پڑھتا ہوں درود اس لیے میں اول و آخر

رد ہو نہ دعا کوئی بھی میری کسی صورت

اور گیلانی کو اس قرب کے طوفاں سے بچا لے

ڈوبے نہ محبت کی یہ کشتی کسی صورت


سلمان گیلانی

No comments:

Post a Comment