عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ساری صدیوں پہ جو بھاری ہے وہ لمحہ ملتا
کاش سرکارﷺ دو عالم کا زمانہ ملتا
آپﷺ کو دیکھتا طائف میں دعائیں دیتے
یوں مِرے صبر و تحمل کو سلیقہ ملتا
آپؐ کے پیچھے کھڑے ہو کے نمازیں پڑھتا
آپؐ کے قدموں کے پیچھے مجھے سجدہ ملتا
بھول جاتا میں کسی طاق میں آنکھیں رکھ کر
آپﷺ کو دیکھتے رہنے کا بہانہ ملتا
حشر تک میری غلامی یونہی قائم رہتی
میری ہر نسل کو فخری یہی ورثہ ملتا
زاہد فخری
No comments:
Post a Comment