Tuesday, 18 May 2021

سلا کر تیز دھاروں کو کنارو تم نہ سو جانا

 سلا کر تیز دھاروں کو کنارو تم نہ سو جانا

روانی زندگانی ہے تو دھارو تم نہ سو جانا

مجھے تم کو سنانی ہے مکمل داستاں اپنی

ادھوری داستاں سن کر ستارو تم نہ سو جانا

تمہارے دائرے میں زندگی محفوظ رہتی ہے

نظام بزم ہستی کے حصارو تم نہ سو جانا

تمہیں سے جاگتا ہے دل میں احساس روا داری

قیام ربط باہم کے سہارو تم نہ سو جانا

اگر نیند آ گئی تم کو تو چشمے سوکھ جائیں گے

کبھی غفلت میں پڑ کر کوہسارو تم نہ سو جانا

تمہیں سے بحر ہستی میں رواں ہے کشتیٔ ہستی

اگر ساحل بھی سو جائیں تو دھارو تم نہ سو جانا

صدائے درد کی خاطر تمہیں کوثر نے چھیڑا ہے

شکستہ ساز کے بیدار تارو تم نہ سو جانا


کوثر سیوانی

No comments:

Post a Comment