Tuesday, 18 May 2021

یہ تم سے کس نے کہا ہے کہ داستاں نہ کہو

 یہ تم سے کس نے کہا ہے کہ داستاں نہ کہو

مگر خدا کے لیے اتنا سچ یہاں نہ کہو

یہ کیسی چھت ہے کہ شبنم ٹپک رہی ہے یہاں

یہ آسمان ہے تم اس کو سائباں نہ کہو

رہِ حیات میں ناکامیاں ضروری ہیں

یہ تجربہ ہے اسے سعئ رائیگاں نہ کہو

مِری جبین بتائے گی عظمتیں اس کی

اسے خدا کے لیے سنگِ آستاں نہ کہو

یہاں مقیم ہیں ویرانیاں رگ و پے میں

تم اور کچھ بھی کہو اس کو شہرِ جاں نہ کہو

جہاں جہاں بھی ستمگر ملیں، ضرورت ہے

کہ اس مقام کو تم جادۂ اماں نہ کہو

معاشرے کا اثر تو ضرور ہے علوی

مِری غزل کو زمانے کی داستاں نہ کہو


عباس علوی

No comments:

Post a Comment