Tuesday, 18 May 2021

سب عمر تو جاری نہیں رہتا ہے سفر بھی

 سب عمر تو جاری نہیں رہتا ہے سفر بھی

آتا ہے کسی دن تو بشر لوٹ کے گھر بھی

منزل تو بڑی شے نہ ملی راہ گزر بھی

باندھا تھا بڑے شوق سے کیا رختِ سفر بھی

اندر سے پھپھوندے ہوئے دیوار بھی در بھی

دیکھے ہیں بڑے لوگوں کے ہم نے بڑے گھر بھی

ہر سمت ہے ویرانی سی ویرانی کا عالم

اب گھر سا نظر آنے لگا ہے مِرا گھر بھی

تنہائی پسند اتنا بھی مت بن یہ سمجھ لے

تنہائی میں ہے چین تو تنہائی میں ڈر بھی

پاگل ہے پتا پوچھ رہا ہے مِرے گھر کا

کیا خانہ بدوشوں کا ہوا کرتا ہے گھر بھی


بسمل آغائی

No comments:

Post a Comment