Tuesday, 18 May 2021

دل نگر اداسی کا یہ سفر اداسی کا

 دل نگر اُداسی کا

یہ سفر اداسی کا

ساری بستی خوشیوں کی

ایک گھر اداسی کا

اک پڑاؤ خوشیوں کا

اک ٹھہر اداسی کا

ہے کہیں ٹھکانہ بھی

در بدر اداسی کا

کون میرے جیسا ہے

منتظر اداسی کا

اک لہر اداسی کی

پھر ٹھہر اداسی کا

ڈھیر اداس رکھتا ہے

اک امر اداسی کا

خونچکاں منظر ہے

تر بہ تر اداسی کا

ان دنوں تو ڈیرہ ہے

سر بہ سر اداسی کا

ڈھیروں خوشیاں ملتی ہیں

میں مگر اداسی کا

دل پہ خوف طاری ہے

بارِ دِگر اداسی کا

آنکھیں اضطراب میں

جی میں گھر اداسی کا

خوشیاں بانٹ لوگوں میں

کچھ تو کر اداسی کا

کر ہی کچھ نہ پائے تو

ہم اگر اداسی کا


مرزا رضی الرحمٰن

No comments:

Post a Comment