ایسی سُر تال، تان بیٹھے ہیں
چھوڑ کر آن بان بیٹھے ہیں
میری آنکھوں میں دیکھ میرے فقیر
تیرے مجذوب دھیان بیٹھے ہیں
اے مِرے سبز لہجے والے سُن
دل میں تیرے نشان بیٹھے ہیں
جو کشش کھینچ لائی تھی تجھ تک
باندھ کر وہ اُڑان، بیٹھے ہیں
تیری آنکھوں کی اک پکار پہ ہم
عشق حُجرے میں آن بیٹھے ہیں
سبز ٹہنی پہ جھولتے تعویز
ڈال ہم میں بھی جان، بیٹھے ہیں
چاہے دریا بھی دشت بن جائے
گر پڑے آسمان، بیٹھے ہیں
سانس ڈوری بندھی ہوئی ہے ابھی
لیجیے امتحان،۔ بیٹھے ہیں
ناہید ورک
No comments:
Post a Comment