Wednesday, 6 January 2021

ڈار سے بچھڑی ہوئی کونج ستارہ کر لی

 ڈار سے بچھڑی ہوئی کونج ستارہ کر لی

یعنی اک شاخِ بریدہ ہی سہاره کر لی

پہلے اس حیرتِ امکان کی وحشت گزری

اور پھر لوحِ تردد بھی نظارہ کر لی

زندگی نظم نہیں ہے کہ مکرر کی صدا

کسی شائق نے لگائی تو دوباره کر لی

ڈال دی کتنے ہی جذبوں کی کثافت اس میں

موجِ بے کیف محبت تھی کنارہ کر لی

اور کچھ بھی نہیں ہونے کی حکایت حسنی

اپنی آواز سنی،۔ اور گوارہ کر لی


ذوالقرنین حسنی

No comments:

Post a Comment