ڈار سے بچھڑی ہوئی کونج ستارہ کر لی
یعنی اک شاخِ بریدہ ہی سہاره کر لی
پہلے اس حیرتِ امکان کی وحشت گزری
اور پھر لوحِ تردد بھی نظارہ کر لی
زندگی نظم نہیں ہے کہ مکرر کی صدا
کسی شائق نے لگائی تو دوباره کر لی
ڈال دی کتنے ہی جذبوں کی کثافت اس میں
موجِ بے کیف محبت تھی کنارہ کر لی
اور کچھ بھی نہیں ہونے کی حکایت حسنی
اپنی آواز سنی،۔ اور گوارہ کر لی
ذوالقرنین حسنی
No comments:
Post a Comment