Monday, 7 March 2022

دل بصیرت راز ہے

 دل بصیرت، راز ہے

یہ حقیقت راز ہے

وہ ضروری تھا مگر

رب کی حکمت راز ہے

قیمتی پتھر ہے وہ

اس کی قیمت راز ہے

جل رہا ہے دل مگر

اس کی حدّت راز ہے

رائیگانی کا نہ پوچھ

یہ اذیّت راز ہے

بد دعا سے ڈرنا تم

اس کی شدّت راز ہے

وعدہ پہنچے گا مگر

کب، یہ مہلت راز ہے

دائروں میں ہے سفر

اور مدّت راز ہے

دل نے تنہائی چُنی

کیوں، یہ نسبت راز ہے

ہجر کا سایہ ہے ساتھ

اور قربت راز ہے

موت جیسا ہے سکوت

میری حیرت راز ہے

کچھ تو غور و فکر ہو

ہر فضیلت راز ہے


ناہید ورک

No comments:

Post a Comment