سنا ہے سرد موسم میں
پرانے درد پھر سے جاگ جاتے ہیں
تبھی شاید
گئی رت کے کئی ٹوٹے ہوئے سپنے
بہت سے ان کہے مصرعے
بہت سی ان کہی نظمیں
تمہاری یاد کی بارش میں بھیگے
خشک پتوں سے بھرے رستے
کچھ ایسے آلگے دل سے
کہ جیسے رُت بدلتے ہی
پرندے لوٹ کر اپنے گھروں کی سمت آتے ہیں
سنا ہے سرد موسم میں
پرانے درد پھر سے جاگ جاتے ہیں
عاطف سعید
No comments:
Post a Comment