Monday, 7 March 2022

پرندے لوٹ کر اپنے گھروں کی سمت آتے ہیں

 سنا ہے سرد موسم میں

پرانے درد پھر سے جاگ جاتے ہیں

تبھی شاید

گئی رت کے کئی ٹوٹے ہوئے سپنے

بہت سے ان کہے مصرعے

بہت سی ان کہی نظمیں

تمہاری یاد کی بارش میں بھیگے 

خشک پتوں سے بھرے رستے

کچھ ایسے آلگے دل سے

کہ جیسے رُت بدلتے ہی 

پرندے لوٹ کر اپنے گھروں کی سمت آتے ہیں

سنا ہے سرد موسم میں

پرانے درد پھر سے جاگ جاتے ہیں


عاطف سعید

No comments:

Post a Comment