Monday, 7 March 2022

آ کہ دھن پر تری سب ہوش گنوایا جائے

 آ کہ دھن پر تری سب ہوش گنوایا جائے

اے مِرے گیت تجھے ڈوب کے گایا جائے  

نم زدہ آنکھ میں سوزش بھی تو ہو سکتی ہے

کیا ضروری ہے کہ؛ ہر راز بتایا جائے

مجھے دعویٰ نہیں ایمان کی مضبوطی کا

جانچنے کو تجھے کیوں سامنے لایا جائے

دل کے اندر جو چراغوں کو جلا بیٹھے ہیں

ایسے لوگوں کو ہواؤں سے بچایا جائے

اس مشقت میں تھکن کی کہاں گنجائش ہے

سانس ٹوٹے تو دباؤ اور بڑھایا جائے

کیسے کیسے پری چہرہ نہیں رکھتے ہیں دل

کسی بے رخ سے رہ و رسم بڑھایا جائے

شاہ زاد اس غمِ تنہائی کا درمان بھی ہے

اتنے لوگوں میں بھی اب نام بتایا جائے


حسین شاہ زاد

No comments:

Post a Comment