Monday, 7 March 2022

ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو

ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو

ہونا ہے جو آج برملا ہو

اس دن بھی جو سر پہ دھوپ چمکی

جس دن پہ بہت فریفتہ ہو

اس رات بھی نیند اگر نہ آئی

جس رات پہ اس قدر فدا ہو

رنگوں میں وہی تو رنگ نکلا

جو تیری نظر میں جچ گیا ہو

پھولوں میں وہی تو پھول ٹھہرا

جو تیرے سلام کو کھلا ہو

اک شخص خدا بنا ہوا ہے

کیا ہو جو یہی مرا خدا ہو

سوگند مجھے غزل کی گوہر

میں نے جو زباں سے کچھ کہا ہو


گوہر ہوشیارپوری

No comments:

Post a Comment