Thursday, 9 April 2026

خطا معاف ابھی یہ عشق کا موسم نہیں ہے

 خطا معاف


سِتم کا ابر محوِ رقص سر پر

ہر اک سو شعلۂ نمرود بھی ہے

سِنان بردار ہیں وحشی قبیلے

فضا میں آکسیجن گھٹ رہی ہے

گھٹی جاتی ہیں سانسیں رفتہ رفتہ

تنازع ہے بقاء کا دم شکستہ

ابھی خود کی اذیت کم نہیں ہے

ابھی یہ عشق کا موسم نہیں ہے


عظیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment