Friday, 10 April 2026

کچھ ایسے تیر نظر کی کمان سے نکلے

 کچھ ایسے تیر نظر کی کمان سے نکلے

ہم اپنی لاش اٹھائے جہاں سے نکلے

تلاش کرنے سے یارو خدا بھی ملتا ہے

بس اتنا سوچ کے ہم بھی مکان سے نکلے

شعور و فکر کے ساگر کھنگالنے والو

وفا کے موتی تو عصمت کی کان سے نکلے

ہمارا نام ہی شاید نہیں تھا شجرے میں

ہم اپنے آپ کہاں خاندان سے نکلے

مجاز اصل میں اجداد نے نکالا ہے

فرنگی خود کہاں ہندوستان سے نکلے


مجاز امروہوی

No comments:

Post a Comment