کچھ ایسے تیر نظر کی کمان سے نکلے
ہم اپنی لاش اٹھائے جہاں سے نکلے
تلاش کرنے سے یارو خدا بھی ملتا ہے
بس اتنا سوچ کے ہم بھی مکان سے نکلے
شعور و فکر کے ساگر کھنگالنے والو
وفا کے موتی تو عصمت کی کان سے نکلے
ہمارا نام ہی شاید نہیں تھا شجرے میں
ہم اپنے آپ کہاں خاندان سے نکلے
مجاز اصل میں اجداد نے نکالا ہے
فرنگی خود کہاں ہندوستان سے نکلے
مجاز امروہوی
No comments:
Post a Comment