چلی ہے نسیمِ سحر دِھیرے دِھیرے
گُلوں پر کرے گی اثر دھیرے دھیرے
تمہاری محبت میں ہم مر مِٹیں گے
مگر تم کو ہو گی خبر دھیرے دھیرے
ابھی شادماں ہو میری زندگی پر
بہاؤ گے آنسو مگر دھیرے دھیرے
ہمیں تم سے اُمید ایسی نہیں تھی
کہ تم پھیر لو گے نظر دھیرے دھیرے
تصوّر میں آ کے وہ جب مُسکرائے
ہوئی رنج و غم کی سحر دھیرے دھیرے
لگی آگ اُلفت کی دونوں کے دل میں
اِدھر دھیرے دھیرے اُدھر دھیرے دھیرے
ابھی راہِ اُلفت سے انجان ہوں میں
سِتم تم کرو ہاں مگر دھیرے دھیرے
صبا اب میری کشتئ زندگی کے
قریب آ رہا ہے بھنور دھیرے دھیرے
صبا بلرامپوری
صبا بلرام پوری
No comments:
Post a Comment