Saturday, 11 April 2026

پھر سے موسم بدل گیا شاید

 دل تڑپ کر بہل گیا شاید

شوق پھر سے مچل گیا شاید

کیوں دریچے پکارتے ہیں مجھے

پھر سے موسم بدل گیا شاید

ہوش انگڑائی لے کے جاگ اٹھا

وصل کا چاند ڈھل گیا شاید

تیر جو آخری تھا ترکش میں

اپنے ہی دل پہ چل گیا شاید

آ رہی ہے ندائے گریۂ سنگ

کوئی گر کر سنبھل گیا شاید


طلعت فاروق

No comments:

Post a Comment