Saturday, 11 April 2026

دے کے خود خون کا منظر مجھ کو

 دے کے خود خون کا منظر مجھ کو

آج کہتا ہے وہ خنجر مجھ کو

کب رہا کوئی ٹھکانہ اپنا

اب کے ڈھونڈو مِرے اندر مجھ کو

دیکھ کر میرا شکستہ ہونا

کہتا ہے پِیر سکندر مجھ کو

زخمِ جاں اور تبسّم شیوہ

کر گیا وقت قلندر مجھ کو

مجھ کو صحرا سا مِلا تھا جو کبھی

کر گیا وہ ہی سمندر مجھ کو


عاطف خان

No comments:

Post a Comment