دے کے خود خون کا منظر مجھ کو
آج کہتا ہے وہ خنجر مجھ کو
کب رہا کوئی ٹھکانہ اپنا
اب کے ڈھونڈو مِرے اندر مجھ کو
دیکھ کر میرا شکستہ ہونا
کہتا ہے پِیر سکندر مجھ کو
زخمِ جاں اور تبسّم شیوہ
کر گیا وقت قلندر مجھ کو
مجھ کو صحرا سا مِلا تھا جو کبھی
کر گیا وہ ہی سمندر مجھ کو
عاطف خان
No comments:
Post a Comment