مِری آنکھوں کا اس سے رابطہ ہے
جسے دیکھے ہوئے عرصہ ہوا ہے
سبب میں جانتا ہوں آنسوؤں کا
تمہاری آنکھ میں تِنکا گِرا ہے
ہمارے ساتھ کیوں تم جاگتے ہو
ہمیں تو جاگنے کا عارضہ ہے
مِرے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے
بتا مجھ کو تو کتنا جانتا ہے
مسافر ہے یقیناً آدمی وہ
جو اتنی بھیڑ میں تنہا کھڑا ہے
عبدالمنان صمدی
No comments:
Post a Comment