نفسِ امارہ کے جب بھی پر کُھلے
آرزوؤں کے ہزاروں در کھلے
جاگتی آنکھوں کے جب منظر کھلے
کربِ ہجرت سے کئی خنجر کھلے
جذبۂ جہد و عمل زندہ رہے
منزلوں کے لاکھ بحر و بر کھلے
ہم پہنچ ہی جائیں گے ساحل تلک
لاکھ طوفانوں کے ہوں لنگر کھلے
یاس و حسرت، رنج و غم، جور و جفا
چاہتوں کے کیا عجب منظر کھلے
گردشِ دوراں کے ہاتھوں دیکھیے
کیسے کیسے کجکلاہی سر کھلے
لب پہ ذکرِ آدمیت ہر گھڑی
اور دل میں بغض کے دفتر کھلے
خواب تھا وہ خواب کی تعبیر کیا
زندگی کے خواب کب کس پر کھلے
کیا سنائیں آپ کو جبران ہم
اس ستمگر کے کہاں جوہر کھلے
عزیز جبران انصاری
No comments:
Post a Comment