Sunday, 12 April 2026

بچ بچا کر دہر کے ہنگام سے

 بچ بچا کر دہر کے ہنگام سے

کٹ رہی ہے زندگی آرام سے

کردیا کتنوں کو شہرت یافتہ

ہم رہے گمنام کے گمنام سے

ہے تو اک شمع میرے بھی روبرو

ڈر رہا ہوں عشق کے انجام سے

اتنی ہر جانب فضا مخدوش ہے

جی نہیں کرتا کہ نکلیں دام سے

ہے صدا مجھ میں شکست ذات کی

در پہ ہے بیٹھی اداسی شام سے

میں اسیر چشم ساقی ہوں عظیم

مے سے مطلب ہے نہ مجھ کو جام سے


عظیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment