بچ بچا کر دہر کے ہنگام سے
کٹ رہی ہے زندگی آرام سے
کردیا کتنوں کو شہرت یافتہ
ہم رہے گمنام کے گمنام سے
ہے تو اک شمع میرے بھی روبرو
ڈر رہا ہوں عشق کے انجام سے
اتنی ہر جانب فضا مخدوش ہے
جی نہیں کرتا کہ نکلیں دام سے
ہے صدا مجھ میں شکست ذات کی
در پہ ہے بیٹھی اداسی شام سے
میں اسیر چشم ساقی ہوں عظیم
مے سے مطلب ہے نہ مجھ کو جام سے
عظیم ہاشمی
No comments:
Post a Comment