Sunday, 12 April 2026

دل میں محبتوں کی وہ تابش نہیں رہی

 آنکھوں میں کوئی خواب کی لرزش نہیں رہی

دل پر بھی اب وہ پہلی سی جنبش نہیں رہی

اب تو عدو سے بھی کوئی رنجش نہیں رہی

اپنی زباں پہ تالے کی خواہش نہیں رہی

ٹُوٹا ہے جب سے تارِِ نفس عشق کا مِرے

دل میں کسی کی یاد کی جُنبش نہیں رہی

جس دل نے ہر نظر کو عبادت سمجھ لیا

اب دل میں وہ تپاکِ ستائش نہیں رہی

دل میں کبھی تھی تیرگیٔ شب کی کاوشیں

اب شوقِ روشنی کی وہ خواہش نہیں رہی

اک آہِ دل نکل گئی حد سے گزر کے جب

پھر مجھ میں کوئی طاقتِ بخشش نہیں رہی

نفرت کی آگ ہو گی اے صارم کہاں سے سرد

دل میں محبتوں کی وہ تابش نہیں رہی


عذیق الرحمٰن صارم

No comments:

Post a Comment