آنکھوں میں کوئی خواب کی لرزش نہیں رہی
دل پر بھی اب وہ پہلی سی جنبش نہیں رہی
اب تو عدو سے بھی کوئی رنجش نہیں رہی
اپنی زباں پہ تالے کی خواہش نہیں رہی
ٹُوٹا ہے جب سے تارِِ نفس عشق کا مِرے
دل میں کسی کی یاد کی جُنبش نہیں رہی
جس دل نے ہر نظر کو عبادت سمجھ لیا
اب دل میں وہ تپاکِ ستائش نہیں رہی
دل میں کبھی تھی تیرگیٔ شب کی کاوشیں
اب شوقِ روشنی کی وہ خواہش نہیں رہی
اک آہِ دل نکل گئی حد سے گزر کے جب
پھر مجھ میں کوئی طاقتِ بخشش نہیں رہی
نفرت کی آگ ہو گی اے صارم کہاں سے سرد
دل میں محبتوں کی وہ تابش نہیں رہی
عذیق الرحمٰن صارم
No comments:
Post a Comment