Thursday, 9 April 2026

علی عارف وہ جب دل تک رسائی دے رہا تھا

 علی عارف وہ جب دل تک رسائی دے رہا تھا

تو اُس کی آنکھ میں کیا کیا دکھائی دے رہا تھا

کہیں ٹھہرے ہوئے پانی نے مہکایا فضا کو

کہیں پر وہ رواں تھا، اور کائی دے رہا تھا

ذرا سا مُسکرا کے وقت نے آواز کیا دی

دلِ خُوش فہم یہ سمجھا، خُدائی دے رہا تھا

وہاں کچھ کان پڑتا ہی نہ تھا ہم جس جگہ تھے

جہاں پر ہم نہیں تھے سب، سُنائی دے رہا تھا

کسی گرداب میں کشتی نے جب دیکھا پلٹ کر

سہارا لو؛ مِرا ساحل دُہائی دے رہا تھا

جسے رکھا ہوا تھا خواب کے دیوار و در میں

اُسے لفظوں کے رستے سے رہائی دے رہا تھا

زمانے کے لیے یہ باعثِ حیرت تو تھا ہی

کہ دل آنکھوں کو درسِ پارسائی دے رہا تھا

عقب میں گِریۂ یعقوب کے دیکھا گیا ہے

سلوکِ ناروا بھائی کو بھائی دے رہا تھا


علی عارف

No comments:

Post a Comment