Thursday, 9 April 2026

رنگ بے رنگ ہوئے دید کے معیار گرے

 رنگ بے رنگ ہوئے دِید کے معیار گِرے

کھا کے ٹھوکر نہ کہیں گرمئ بازار گرے

آبلہ پائی! بتا اب تُو کِدھر جائے گی؟

دُھوپ کو ضد ہے کہ وہ بھی تہِ دیوار گرے

پیار کے نام پہ بستی میں صدا دی، لیکن

سارے دروازوں سے کشکول میں انکار گرے

لڑکھڑایا تھا میں حالات کی ٹھوکر سے مگر

جانے کیا سوچ کے پہلے ہی مِرے یار گرے

خوب ہے رُت کا بدلنا، مگر ایسا تو نہ ہو

شاخ کا پھُول گرے، لفظ کی دستار گرے

سانس کے شانہ بشانہ جو چلی آتی تھی

ہائے کل رات اسی یاد کے آثار گرے

اجنبی اپنے ہی گھر میں نظر آتا ہوں اُمید

اب ضروری ہے کسی طرح یہ کِردار گرے


ڈاکٹر علی عباس امید

No comments:

Post a Comment