Friday, 10 April 2026

میری آوارگیٔ شوق کا عالم مت پوچھ

 آوارگیٔ شوق

کیا بتاؤں تجھے

اک دن

میرا آوارہ سفر

جب تیرے شہر سے گذرا تو

تیری یادوں نے

اتنے ہچکولے دئیے مجھ کو

کہ

میں کانپ اٹھا

دھڑکنیں تیز تھیں

یا ٹرین ہی تھی تیز ترین

ایسا لگتا تھا

کہ پٹڑی سے اتر جائے گی

سانس چھوڑوں گا

تو پھر لوٹ نہیں پائے گی

کتنے ہچکولے دئیے مجھ کو

تیری یادوں نے

میری دھڑکن میں بسے

خانماں بربادوں نے

کیا بتاؤں میں تجھے

میری آوارگیٔ شوق کا عالم

مت پوچھ


عظیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment