Saturday, 11 April 2026

شامل کارواں نہ تھا راہگزار تھا عجب

 شامل کارواں نہ تھا راہ گزار تھا عجب

راہ میں بھی غبار تھا سر پہ بار تھا عجب

پیشِ نظر کھڑی رہی منزلِ جستجو مگر

ہاتھ میں بھی سکت نہ تھی پاؤں میں خار تھا عجب

ہار جو دوسروں کے تھے سانپ کی مثل تو نہ تھے

تم نے مِرے گلے میں جو ڈالا وہ ہار تھا عجب

میرے لبوں پہ دہر کا شکوہ جو تھا فضول تھا

چونکہ درون دل مجھے دیر سے پیار تھا عجب

طولِ شبِ فراق سی دونوں کی عمر دوستی

جامد زندہ طبع رسا اس کا بھی یار تھا عجب


عقیل جامد

No comments:

Post a Comment