Thursday, 9 April 2026

ہمیں پتا بھی نہیں کس کی وہ کہانی تھی

 ہمیں پتا بھی نہیں کس کی وہ کہانی تھی

وہ اس قدر تھی نئی کہ بہت پرانی تھی

کبھی جو دیکھ لیا اس کو دیکھتے ہی رہے

وہ اپنے آپ میں ٹھہری ہوئی روانی تھی

تمہاری یاد کا رکھا ہے کینوس ورنہ

ہمارے خواب نے صورت نئی بنانی تھی

تمہارے پاس تو قصے کہانیاں ہیں بہت

کبھی جو ہم نے کہی بھی نہیں سنانی تھی

یہ رشتے ناطے فقط بوجھ تھا کہ ڈھونے کا

 وفا بھی سوچیے ایسے ہی بس نبھانی تھی

وہیں پہ خاک سے ملنا تھا خاک ہونا تھا

اسی کے شہر میں شہرت اگر کمانی تھی

وہ روز روز کا مرنا کمال تھا لیکن

یہ زندگی تو مری جان آزمانی تھی


علمدار عدم

No comments:

Post a Comment