Saturday, 25 December 2021

سورج سے اپنے معرکے میں ہار تک گئے

 سورج سے اپنے معرکے میں ہار تک گئے

وہ لوگ جو کہ سایۂ دیوار تک گئے

دل میں ہی خامشی سے کہیں مر گیا ہے عشق

قصے کسی کے حسن کے اخبار تک گئے

تعبیریں ڈھونڈتے ہوئے لوگوں کے درمیاں

سپنے ہزار لے کے ہم بازار تک گئے

جائیں کہاں یا جا کے ہم بیٹھیں کہاں اے دوست

اس شہر سے ہمارے تو آثار تک گئے

منزل کے واسطے یہاں کچھ اور چاہیۓ

جانے کو تنہا وقت کی رفتار تک گئے


میر تنہا یوسفی

No comments:

Post a Comment