گیت
دل میں کسی کی چاہ بسا کر کیا پایا کیا پاؤ گے
ہم تو پہلے ہی کہتے تھے، دیکھو تم پچھتاؤ گے
آس کی پریاں اڑتے اڑتے مُڑ مُڑ کر یہ کہتی ہیں
پل بھر کو بھی ٹھہرو گے تو پتھر کے ہو جاؤ گے
دل کہتا ہے ان حالات میں ترکِ تعلق بہتر ہے
پھر کہتا ہے بہتر تو ہے لیکن تم کر پاؤ گے
شام ہوئی اور بن کے پنچھی اپنی شاخوں پر آئے
مجھ سے پوچھ رہے ہیں سائیں، آج بھی گھر نہیں جاؤ گے
بھائی ہمارے راہ نہ روکو جاؤ اپنا کام کرو
دیوانوں سے اُلجھو گے تو دیوانے کہلاؤ گے
عشق سراسر کارِ زیاں ہے، ٹھیک ہے مانے لیتے ہیں
سود و زیاں کی حقیقت کیا ہے، یہ بھی کچھ بتلاؤ گے
عنایت علی خان
No comments:
Post a Comment